→ تمام مضامین
ڈیڈ ان شیل
27 اگست، 2026

ڈیڈ ان شیل


چکس کا انڈے میں مر جانا، ڈیڈ ان شیل کہلاتا ہے۔ انڈوں میں غذائیت کی کمی، چک کی انڈے میں نارمل پوزیشن نا ہونا، نمی کی کمی سےانڈے کا خول سخت ہو جانا، نمی کی زیادتی اور آکسیجن کی کمی، درجہ حرارت کم ہونا، پیر کی عمر کم ہونا، پینے والے یا گندے ہاتھوں سےانڈے کو پکڑنا، بے ڈھنگا باکس اور مناسب نیسٹنگ نہ ہونا، انڈوں کا زور سے ہلنا، خاندانی مسئلہ ماں سے انڈوں میں سالمونیلا وائرس کا منتقل ہونا، کیلشیئم کی کمی اور جراثیم وغیرہ ڈیڈان شیل کی وجہ بنتے ہیں۔ اندھیرے میں ٹارچ کے ذریعہ انڈے میں موجود چک کا معائنہ کرنا کینڈ لنگ کہلاتا ہے۔ بعض فی میلز پہلے دن سے، جبکہ بعض فی میلز انڈے مکمل کرنے کے بعد انہیں سیکنا شروع کرتی ہیں۔ اس لیےآخری انڈے کے Lay کیے جانے کے چار دن بعد کینلڈ نگ کے ذریعہ انڈوں کی فرٹیلٹی چیک کی جاسکتی ہے۔ اسکے بعد چکس کے نکلنے سےچند دن پہلے بھی کینڈ لنگ کرنا مناسب ہے۔ پہلے چار دن کے بعد انڈے میں سرخ وینز کے ساتھ دھڑ کن کا محسوس ہونا انڈے کےفر ٹائل ہونے کی نشانی ہے۔ آخری دنوں میں اگر انڈے کا خلاء والا حصہ کالا پڑ جائے یا شروع کے دنوں میں وینز نظر آنے کے باوجود انڈا پیلا ہو جائے اور دھڑ کن محسوس نا ہو تو سمجھ جائیں ڈیڈ ان شیل ہو چکا ہے۔ چکس کے نکلنے کے لیے شیڈ کا درجہ حرارت کم از 22C اور زیادہ سے زیادہ 28C ہونا چاہیے۔ جبکہ نمی 50% کے قریب قریب ہونی چاہیے۔ چکس کے نکلنے کے قریب انڈوں پر اور باکس میں ہلکا ہلکا شاور کرنانمی کی کمی کو دور کر سکتا ہے اور چکس آسانی سے انڈے سے باہر آجاتے ہیں۔ چکس کا نکلنا ہیچنگ کہلاتا ہے۔ درجہ حرارت اور نمی کا حساب رکھنے کے لیے شیڈ میں ٹمپریچر میٹر کا ہونا بہت ضروری ہے۔

Excessive Use of Calcium
جی ہاں، کاکٹیل (Cockatiel) میں کیلشیم کا ضرورت سے زیادہ استعمال انڈے کے اندر بچے کی موت (Dead in Shell) کا سبب بن سکتا ہے۔
اگرچہ کیلشیم انڈے کے چھلکے (eggshell) کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے، لیکن اس کی زیادتی بریڈنگ (breeding) کے دوران نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

کیلشیم کی زیادتی سے Dead in Shell کیوں ہوتا ہے؟
بہت سخت چھلکا (Thick Eggshell):
جب کیلشیم بہت زیادہ ہو جائے، تو انڈے کا چھلکا بہت سخت اور موٹا بن جاتا ہے۔ اس وجہ سے جب بچہ انڈے سے نکلنے کے لیے چھلکا توڑتا ہے (pipping)، تو وہ اسے توڑ نہیں پاتا اور چھلکے کے اندر ہی تھک کر مر جاتا ہے۔

گیس کا تبادلہ کم ہونا (Reduced Gas Exchange):
بہت زیادہ کیلشیم انڈے کے خلیات (pores) کو بند کر دیتا ہے، جس سے انڈے کے اندر بچے کو سانس لینے کے لیے آکسیجن نہیں ملتی۔

توازن کی خرابی:
کیلشیم کی زیادتی جسم میں فاسفورس اور دیگر معدنیات (minerals) کے جذب کو کم کر دیتی ہے، جو بچے کی نشوونما کے لیے ضروری ہیں۔

دیگر نقصانات (Excess (Calcium Side Effects
گردوں کے مسائل:
زیادہ کیلشیم کاکٹیل کے گردوں (kidneys) کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
نرم چھلکے کے انڈے: حیران کن طور پر، کیلشیم کی بہت زیادہ مقدار بھی کبھی کبھی غیر متوازن خوراک کے ساتھ مل کر عجیب و غریب یا نرم چھلکے والے انڈے پیدا کر سکتی ہے۔

احتیاطی تدابیر:
قدرتی ذرائع: سپلیمنٹس کے بجائے کٹل فش بون (Cuttlebone) یا ابلی ہوئی انڈے کے چھلکوں کا پاؤڈر استعمال کریں۔(Powdered)
متوازن خوراک: صرف بیجوں (seeds) پر انحصار نہ کریں، متوازن پیلٹ (pellet) soft/soak food اور سبزیاں دیں۔

ضرورت کے مطابق: کیلشیم صرف اس وقت زیادہ دیں جب مادہ انڈے دینے والی ہو، ہر وقت زیادہ کیلشیم دینا نقصان دہ ہے۔
اگر آپ کے کاکٹیل کے انڈوں میں اکثر بچے مر رہے ہیں، تو کیلشیم سپلیمنٹ کی مقدار کو چیک کریں اور کسی ماہر برڈ ویٹرنریavian specialist ڈاکٹر سے رجوع کریں

Chat on WhatsApp